دِین و کفر آنکھوں نے تیری کر دیا اے یار مست
صاحبِ تسبیح مست، صاحبِ زنار مست
چشم و ابرو کو تِرے یوں دیکھ کر کہتی ہے خلق
تل رہے ہیں کھینچ کر آپس میں دو تلوار مست
جامِ گل نے کھو دیا ہے باغباں کا اب کے ہوش
چاہتی ہیں خونِ دل یوں دم بدم انکھیاں تِری
بادۂ گلرنگ کو مانگیں ہے جوں ہر بار مست
چشم کے گوشے سے آنے کا اشارہ کر گیا
بات وہ سچی نہیں جس کا کرے اقرار مست
ہوش مجھ کو تا دمِ محشر نہ آوے گا طبیب
ہو گیا ہوں میں بیادِ نرگسِ بیمار مست
سچ تو کہہ کس میکدے میں آج یہ مے پی ہے سوزؔ
دیکھ کر مستی کو تیری ہو گئے ہُشیار مست
میر سوز دہلوی
No comments:
Post a Comment