میں تو غبار دل کا یک بار دھو کے آیا
کوچے میں خوبرو کے کل خوب رو کے آیا
کیوں طفلِ اشک میں نے آنکھوں میں تجھ کو پالا
اس پر بھی میرے منہ پر یوں گرم ہو کے آیا
مژگاں کی تیری نوکیں آلودہ ہیں لہو میں
منہ سے لگا ہے کاجل، مِسی گلے سے چمٹی
وہ کون چلبلی تھی جس پاس سو کے آیا
آتا ہے تو شتاب آ جیتا ہے سوزؔ اب تک
الا نہ بعد مردن کس کام گو کہ آیا
میر سوز دہلوی
No comments:
Post a Comment