Friday, 4 December 2015

میں تو غبار دل کا یکبار دھو کے آیا

میں تو غبار دل کا یک بار دھو کے آیا
کوچے میں خوبرو کے کل خوب رو کے آیا
کیوں طفلِ اشک میں نے آنکھوں میں تجھ کو پالا
اس پر بھی میرے منہ پر یوں گرم ہو کے آیا
مژگاں کی تیری نوکیں آلودہ ہیں لہو میں
ظالم نگاہ کس کے دل میں گڑو کے آیا
منہ سے لگا ہے کاجل، مِسی گلے سے چمٹی
وہ کون چلبلی تھی جس پاس سو کے آیا
آتا ہے تو شتاب آ جیتا ہے سوزؔ اب تک
الا نہ بعد مردن کس کام گو کہ آیا

میر سوز دہلوی

No comments:

Post a Comment