جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا
کون اس کا رقیب ہووے گا
بے وطن، بے رفیق، بے اسباب
کون ایسا غریب ہووے گا
دردِ دل کی دوا ہو جس کے پاس
مل رہے گا کبھی تو دنیا میں
گر ہمارا نصیب ہووے گا
سوزؔ کو وہ ملائے گا تجھ سے
جو خدا کا حبیب ہووے گا
میر سوز دہلوی
No comments:
Post a Comment