Friday, 4 December 2015

جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا

جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا
کون اس کا رقیب ہووے گا
بے وطن، بے رفیق، بے اسباب
کون ایسا غریب ہووے گا
دردِ دل کی دوا ہو جس کے پاس
کوئی ایسا طبیب ہووے گا
مل رہے گا کبھی تو دنیا میں
گر ہمارا نصیب ہووے گا
سوزؔ کو وہ ملائے گا تجھ سے
جو خدا کا حبیب ہووے گا

میر سوز دہلوی

No comments:

Post a Comment