Saturday, 18 December 2021

سلگتی دھوپ میں اگتے شرارے کون دیکھے گا

 کون دیکھے گا (پارٹ 1)


سُلگتی دھوپ میں اُگتے شرارے کون دیکھے گا 

مِری پلکوں سے گرتے چاند تارے کون دیکھے گا

چُھڑا لو ہاتھ بے شک تم، مگر اتنا بتا جاؤ

تمہارے بعد جو ہوں گے خسارے، کون دیکھے گا

تم ایسے رُوٹھ جاؤ گے، تو منظر رُوٹھ جائیں گے

مِری آنکھوں سے پھر دلکش نظارے، کون دیکھے گا

ابھی ہے تاج ہاتھوں میں، ابھی تو دیکھتے ہیں لوگ

مگر جب ہاتھ میں ہوں گے غُبارے، کون دیکھے گا

کہا تھا؛ آنکھ میں رکھ لو، ابھی بھی وقت ہے، ورنہ

ہماری آنکھ سے سپنے تمہارے کون دیکھے گا


سدرہ غلام رسول

No comments:

Post a Comment