Saturday, 18 December 2021

نقش سارے مٹا کے آیا ہوں

 نقش سارے مٹا کے آیا ہوں

دل سے یادیں بھلا کے آیا ہوں

اک سمندر ہے آنکھ میں باقی

اک سمندر بہا کے آیا ہوں

اس کو خود پہ غرور آتا تھا

اس کو آئینہ دکھا کے آیا ہوں

ایک دنیا پہ نیند طاری ہے

ایک دنیا جگا کے آیا ہو

اس سمندر کا دل نہں بھرتا

کتنے دریا بہا کے آیا ہوں

پیار مجھ سے حساب مانگے گا

کتنے لمحے گنوا کے آیا ہوں

گو میں آیا ہوں دیر سے مانی

اپنا رستہ بنا کے آیا ہوں


ع ن مانی

عمانوئیل نذیر مانی

No comments:

Post a Comment