نقش سارے مٹا کے آیا ہوں
دل سے یادیں بھلا کے آیا ہوں
اک سمندر ہے آنکھ میں باقی
اک سمندر بہا کے آیا ہوں
اس کو خود پہ غرور آتا تھا
اس کو آئینہ دکھا کے آیا ہوں
ایک دنیا پہ نیند طاری ہے
ایک دنیا جگا کے آیا ہو
اس سمندر کا دل نہں بھرتا
کتنے دریا بہا کے آیا ہوں
پیار مجھ سے حساب مانگے گا
کتنے لمحے گنوا کے آیا ہوں
گو میں آیا ہوں دیر سے مانی
اپنا رستہ بنا کے آیا ہوں
ع ن مانی
عمانوئیل نذیر مانی
No comments:
Post a Comment