Sunday, 16 October 2022

سجنی موسم بدل رہا ہے

 سندیسہ

سجنی موسم بدل رہا ہے

سرما کی پہلی بارش نے 

دروازے پر دستک دی ہے

سرد ہوائیں مجھ سے تیرا پوچھ رہی ہیں

سُوپ کے کپ سے اٹھنے والی بھاپ میں 

ماضی جھلک رہا ہے 

کافی میں بھی ہجر کی تلخی گُھلی ہوئی ہے 

رستے خاموشی میں لپٹے، سوچ رہے ہیں

اس موسم میں واک پہ آنے والے 

وہ دو پاگل پریمی آئیں گے کیا؟

پت جھڑ اوڑھے پیڑوں کی سرگوشی 

ہر سُو گونج رہی ہے

سجنی! ان سے کیا کہنا ہے


عاطف سعید

No comments:

Post a Comment