Wednesday, 6 January 2021

ساتھ جس کے رہیں سدا آنکھیں

 ساتھ جس کے رہیں سدا آنکھیں

اس سے کیسے کروں جدا آنکھیں

سب محبت کے استعارے ہیں

چاند، بادل، دھنک، ہوا ، آنکھیں

لفظ سارے ہی ہو گئے گیلے

میں نے کاغذ پہ جب لکھا آنکھیں

کتنی آنکھوں میں ڈھونڈتا چہرہ

کتنے چہروں میں ڈھونڈتا آنکھیں

کاش، کوئی تو دیدہ ور نکلے

یوں تو پھیلی ہیں جابجا آنکھیں

میری آنکھوں سے دیکھتا خود کو

کاش وہ مجھ سے مانگتا آنکھیں

میری خواہش بھرم رہے باقی

اس کا کہنا کہ؛ آ ملا آنکھیں

کوئی دیکھے تو دل پگھل جائے

کیسے کرتی ہیں التجا آنکھیں

اس سے پوچھا سبب جو لٹنے کا

مسکراتے ہوئے کہا؛ آنکھیں

اب میں سپنے کہاں سے لاؤں گا

کون چہرے پہ لکھ گیا آنکھیں

کم سے کم خود کو دیکھ تو لیتے

کوئی بستی میں بانٹتا آنکھیں

لفظ ڈھلتے گئے تھے چہروں میں

اور میں سوچتا رہا آنکھیں

ہونٹ خاموش ہو گئے اس کے

اور کرتی رہیں دعا آنکھیں

رات ساری جلی ہیں اشکوں میں

اور دیں خود کو کیا سزا آنکھیں

خواب بننے یا اشک رونے ہیں

کر رہی ہیں یہ فیصلہ آنکھیں


عاطف سعید

No comments:

Post a Comment