Wednesday, 6 January 2021

بے فاصلہ منزل

 بے فاصلہ منزل


صبح دم کوچ کا اعلان ہوا

شمعدانوں میں جلے خواب

کہیں درد کا موم

دفعتاً بارِ امانت کی سبکدوشی کی تیاری ہوئی

آن پہنچی کسی انجانی مسافت کی گھڑی

سرسری اس نے

زمانے سے ملاقات کو معزول کیا

در و دیوار پہ بہتی ہوئی آتش میں بدن کو دھویا

اور پوشاک کیا پگھلے ہوئے سونے کو

پھر کسی سُرمئی اُبٹن کی شناسائی کو چہرے پہ ملا

صف بہ صف ہو گئے بجھتے ہوئے تاروں کے ہجوم

پھول شاخوں سے اترتے ہوئے بیعت کو جھکے

ایک بے فاصلہ منزل کو روانہ ہوا چاہت کا جلوس

شہر فردا کو

ملالِ گل تازہ کب تھا

تختِ بلقیس کی آمد تھی

جنازہ کب تھا


حسین مجروح

No comments:

Post a Comment