بے فاصلہ منزل
صبح دم کوچ کا اعلان ہوا
شمعدانوں میں جلے خواب
کہیں درد کا موم
دفعتاً بارِ امانت کی سبکدوشی کی تیاری ہوئی
آن پہنچی کسی انجانی مسافت کی گھڑی
سرسری اس نے
زمانے سے ملاقات کو معزول کیا
در و دیوار پہ بہتی ہوئی آتش میں بدن کو دھویا
اور پوشاک کیا پگھلے ہوئے سونے کو
پھر کسی سُرمئی اُبٹن کی شناسائی کو چہرے پہ ملا
صف بہ صف ہو گئے بجھتے ہوئے تاروں کے ہجوم
پھول شاخوں سے اترتے ہوئے بیعت کو جھکے
ایک بے فاصلہ منزل کو روانہ ہوا چاہت کا جلوس
شہر فردا کو
ملالِ گل تازہ کب تھا
تختِ بلقیس کی آمد تھی
جنازہ کب تھا
حسین مجروح
No comments:
Post a Comment