Wednesday, 6 January 2021

کیا کہوں دل تو گرفتار بلا ہے اب تک

کیا کہوں دل تو گرفتارِ بلا ہے اب تک

کون دُشمن ہے جو اس گھر میں چُھپا ہے اب تک

کس کو الزام دوں اے بخت ستم گر تُو بتا؟

پُھول دے کر مجھے پتھر ہی ملا ہے اب تک

کون ہوں یہ نہیں معلوم؟ مگر ہوں موجود

اتنی ہی بات کا ادراک ہوا ہے اب تک

خار تو خار ہے کیوں اس کو اُٹھایا میں نے

اپنے ہی دل کی مروّت سے گِلہ ہے اب تک

ہو گئے مجھ سے جُدا سارے رفیقانِ سفر

اک فقط درد ہے پہلو سے لگا ہے اب تک

کوئی بدلا نہیں اس دورِ خِرد میں احمد

ایک میں ہوں کہ جسے پاسِ وفا ہے اب تک


الطاف احمد اعظمی

No comments:

Post a Comment