اجنبی ہم سفر نہیں ہوتے
خواہشوں کے بھی پَر نہیں ہوتے
دُور تک کیسے ساتھ جاؤ گے
رہنما سب خضر نہیں ہوتے
دل کی آواز بنتے ہیں احساس
لفظ جب بے اثر نہیں ہوتے
رُت خزاں کی ہے زرد بے رنگی
بار آور شجر نہیں ہوتے
سُرمئ ڈھلتی شاموں میں اکثر
لفظ بھی معتبر نہیں ہوتے
نادیہ عنبر لودھی
No comments:
Post a Comment