Wednesday, 8 June 2022

حقیقت آشنا میرے ہمیں جیون کے رستوں پر کہاں تک ساتھ چلنا ہے

 حقیقت آشنا میرے

ہمیں جیون کے رستوں پر کہاں تک ساتھ چلنا ہے

کہاں وہ موڑ ہے جس نے ہمیں تنہائی دینی ہے

کہاں تک تم مجھے تھامو گے جب گرنے لگوں گا میں

کہاں پر اس طرح ہو گا کہ تم مجھ کو نہ تھامو گے

تمہیں آواز دوں گا تم میری جانب نہ دیکھو گے

میں جیتا ہوں یا مرتا ہوں میرے بارے نہ سوچو گے

جنم دن پر کرو گے فون، نا ہی کارڈ بھیجو گے

سنو ساتھی 

ہمیں جیون کے رستے پر جہاں تک ساتھ چلنا ہے

وہاں تک تم مجھے عادی کرو نہ اس طرح اپنا

کہ جب وہ موڑ آئے اور اپنی راہ میں جاؤں

تو اپنے راستے کو اجنبی اپنے لیے پاؤں


عاطف سعید

No comments:

Post a Comment