Saturday, 7 August 2021

سورج کی تپتی دھوپ نے مارا ہے ان دنوں

 سورج کی تپتی دھوپ نے مارا ہے ان دنوں

پیڑوں کی چھاؤں کا ہی سہارا ہے ان دنوں

ہم کو بھی دل کے درد نے مارا ہے ان دنوں

دردِ جگر غزل میں اتارا ہے ان دنوں

احساس برف برف ہیں دل کی زمین پر

یادوں کی دھوپ کا ہی سہارا ہے ان دنوں

سُوکھے بدن کی خاک پہ غم کی پھوار تھی

یہ ہی سبب ہے جسم میں گارا ہے ان دنوں

یہ اشک اب تو پیاس بجھانے لگے مِری

یہ آبشار اپنا سہارا ہے ان دنوں

غم کے تھپیڑے بیچ سمندر میں لے گئے

خوشیوں کا مجھ سے دور کنارہ ہے ان دنوں

سیما کی دھڑکنیں بھی تمہاری کنیز ہیں

دل پر ہمارے راج تمہارا ہے ان دنوں


سیما شرما میرٹھی

No comments:

Post a Comment