Friday, 5 March 2021

کسی پرانی حویلی سے اک دیا نکلا

 کسی پرانی حویلی سے اک دِیا نِکلا

یہ کون میری محبت میں مبتلا نکلا

رفاقتوں کے زمان و مکاں سمجھتے ہوئے

میں ایک روز تمہاری گلی میں جا نکلا

جڑے ہوئے ہیں ابھی بھی مکالمے سے یہ لوگ

تمہارا شہر تو تہذیب یافتہ نکلا

پلٹ کے پھر کبھی آسودگی نہیں آئی

وہ ایک شخص مِری زندگی سے کیا نکلا

کسی سڑک پہ نہ آیا مِری مدد کے لیے

جو نقشِ پا مِرا صحرا میں رہ نما نکلا

پڑے ہوئے تھے انا میں تو کچھ نہ سُوجھتا تھا

ہم اپنے آپ سے نکلے تو راستا نکلا


عابد ملک

No comments:

Post a Comment