Friday, 5 March 2021

ہاتھ میں بادہ عرفاں کی صراحی دینا

 ہاتھ میں بادۂ عرفاں کی صراحی دینا

دے سکے تو مِرے جد کی مجھے شاہی دینا

میں گنہگار نہیں ہوں تجھے معلوم ہے سب

یہ اگر سچ ہے تو پھر سچ کی گواہی دینا

بیٹھ کر لان میں آواز سنیں جھینگر کی

گھر کی ہمراہی کو پربت کی نواحی دینا

کربلا جب بھی کسی لشکرِ باطل سے لڑیں

پھر ہمیں اصغر و اکبر سے سپاہی دینا

عمر کاٹی مِرے پرکھوں نے بیابانوں میں

اب زمینیں مِری اقلیم میں چاہی دینا

سر پر اوڑھوں کہ اسے چُنری کی قط پر لوڑھوں

میرے تن کو میرے ساجن کی سیاہی دینا


سید ناصر شہزاد

No comments:

Post a Comment