ہاتھ میں بادۂ عرفاں کی صراحی دینا
دے سکے تو مِرے جد کی مجھے شاہی دینا
میں گنہگار نہیں ہوں تجھے معلوم ہے سب
یہ اگر سچ ہے تو پھر سچ کی گواہی دینا
بیٹھ کر لان میں آواز سنیں جھینگر کی
گھر کی ہمراہی کو پربت کی نواحی دینا
کربلا جب بھی کسی لشکرِ باطل سے لڑیں
پھر ہمیں اصغر و اکبر سے سپاہی دینا
عمر کاٹی مِرے پرکھوں نے بیابانوں میں
اب زمینیں مِری اقلیم میں چاہی دینا
سر پر اوڑھوں کہ اسے چُنری کی قط پر لوڑھوں
میرے تن کو میرے ساجن کی سیاہی دینا
سید ناصر شہزاد
No comments:
Post a Comment