Friday, 21 August 2020

جب بھی شمع طرب جلائی ہے

جب بھی شمعِ طرب جلائی ہے
آنچ محرومیوں کی آئی ہے
راستے اتنے بیکراں تو نہ تھے
جستجو کتنی دور لائی ہے
زحمت جستجو سے کیا ہو گا
بوئے گل کس کے ہاتھ آئی ہے
کتنی رنگینیوں میں تیری یاد
کس قدر سادگی سے آئی ہے
جب بھی جاوید چھیڑ دی ہے غزل
بات وارفتگی سے آئی ہے

فرید جاوید

No comments:

Post a Comment