کئی بار یوں بھی دیکھا ہے
یہ جو من کی سیما ریکھا ہے
من دوڑنے لگتا ہے
انجانی پیاس کے پیچھے
انجانی آس کے پیچھے
من دوڑنے لگتا ہے
راہوں میں، راہوں میں
جیون کی راہوں میں
جو کھلے ہیں پھول
پھول مسکرا کے
کون سا پھول چرا کے
رکھ لوں من میں سجا کے
کئی بار یوں بھی دیکھا ہے
یہ جو من کی سیما ریکھا ہے
من دوڑنے لگتا ہے
جانوں نا، جانوں نا
الجھن یہ جانوں نا
سلجھاؤں کیسے
کچھ سمجھ نہ پاؤں
کس کو میت بناؤں
کس کی پریت بھلاؤں
کئی بار یوں بھی دیکھا ہے
یہ جو من کی سیما ریکھا ہے
من دوڑنے لگتا ہے
یوگیش گوڑ
No comments:
Post a Comment