Friday, 21 August 2020

کئی بار یوں بھی دیکھا ہے

کئی بار یوں بھی دیکھا ہے
یہ جو من کی سیما ریکھا ہے
من دوڑنے لگتا ہے
انجانی پیاس کے پیچھے
انجانی آس کے پیچھے
من دوڑنے لگتا ہے

راہوں میں، راہوں میں
جیون کی راہوں میں
جو کھلے ہیں پھول
پھول مسکرا کے
کون سا پھول چرا کے
رکھ لوں من میں سجا کے
کئی بار یوں بھی دیکھا ہے
یہ جو من کی سیما ریکھا ہے
من دوڑنے لگتا ہے

جانوں نا، جانوں نا
الجھن یہ جانوں نا
سلجھاؤں کیسے
کچھ سمجھ نہ پاؤں
کس کو میت بناؤں
کس کی پریت بھلاؤں
کئی بار یوں بھی دیکھا ہے
یہ جو من کی سیما ریکھا ہے
من دوڑنے لگتا ہے

یوگیش گوڑ

No comments:

Post a Comment