Monday, 8 March 2021

سرزد ہوئی تھی ایک خطا کھیل کھیل میں

 سرزد ہوئی تھی ایک خطا کھیل کھیل میں

پھر میں اسیر ہو گیا پیکر کے جیل میں

اب لوٹ کر بدل گئی رُت پھول کھل گئے

دیوار پر لٹکتی ہوئی زرد بیل میں

کتنے سمے فراق کے دہرا گئے مجھے

کتنی رُتیں بکھر گئیں دو پل کے میل میں

شعلوں کا رقص تجھ کو نہیں تھا اگر پسند

یہ آگ کیوں لگائی تھی مٹی کے تیل میں


مراتب اختر

No comments:

Post a Comment