دل کی بستی پہ کسی درد کا سایہ بھی نہیں
ایسا ویرانی کا موسم کبھی آیا بھی نہیں
ہم کسی اور ہی عالم میں رہا کرتے ہیں
اہل دنیا نے جہاں آ کے ستایا بھی نہیں
ہم پہ اس عالم تازہ میں گزرتی کیا ہے
تم نے پوچھا بھی نہیں ہم نے بتایا بھی نہیں
بے زمینی کا یہ دکھ اور زمیں بھی اپنی
بے بسی ایسی کہ نکتہ یہ اٹھایا بھی نہیں
اس نے ہمدردی کے پیماں تو بہت باندھے تھے
آ پڑی ہے تو مِرا ہاتھ بٹایا بھی نہیں
سرد مہری کہ جگر چھلنی کیے دیتی ہے
اس نے یوں دیکھنے میں ہاتھ چھڑایا بھی نہیں
صدیق شاہد
No comments:
Post a Comment