Monday, 8 March 2021

دل کی بستی پہ کسی درد کا سایہ بھی نہیں

دل کی بستی پہ کسی درد کا سایہ بھی نہیں

ایسا ویرانی کا موسم کبھی آیا بھی نہیں

ہم کسی اور ہی عالم میں رہا کرتے ہیں

اہل دنیا نے جہاں آ کے ستایا بھی نہیں

ہم پہ اس عالم تازہ میں گزرتی کیا ہے

تم نے پوچھا بھی نہیں ہم نے بتایا بھی نہیں

بے زمینی کا یہ دکھ اور زمیں بھی اپنی

بے بسی ایسی کہ نکتہ یہ اٹھایا بھی نہیں

اس نے ہمدردی کے پیماں تو بہت باندھے تھے

آ پڑی ہے تو مِرا ہاتھ بٹایا بھی نہیں

سرد مہری کہ جگر چھلنی کیے دیتی ہے

اس نے یوں دیکھنے میں ہاتھ چھڑایا بھی نہیں


صدیق شاہد

No comments:

Post a Comment