Saturday, 6 March 2021

اس سایہ دار پیڑ کو جڑ سے اکھاڑ کے

 اس سایہ دار پیڑ کو جڑ سے اکھاڑ کے

کیا مل گیا تجھے مِری دنیا اجاڑ کے

اب اور انتظار کر اے کھوکھلے بدن

میں آ رہا ہوں مدِ مقابل پچھاڑ کے

تنہا مجھے بسیط خلا میں اڑا دیا

ہمزاد نے بیاضِ تسلسل سے پھاڑ کے

کیوں چاند کی طرف ہیں رواں کم نگاہ لوگ

دل کی ردا سے عظمتِ پستی کو جھاڑ کے

اس خود نما کی رفعتِ بنیاد دیکھیے

پاؤں زمین بوس ہیں اونچے پہاڑ کے

شہرت کی آگ اصل میں اک نقشِ دود تھی

بجھ کر بکھر گئی تِرا حلیہ بگاڑ کے


مراتب اختر

No comments:

Post a Comment