Saturday, 6 March 2021

نہ موم ہوں نہ سنگ ہوں ملنگ ہوں

 نہ موم ہوں، نہ سنگ ہوں، ملنگ ہوں

میں خود سے خود کی جنگ ہوں، ملنگ ہوں

تمہیں جہانِ رنگ و بُو کا شوق ہے

میں زندگی سے تنگ ہوں، ملنگ ہوں

مِرے بدن پہ عشق کے نشان ہیں

تِری نظر میں ننگ ہوں، ملنگ ہوں

نہ گرد کا، نہ بارشوں کا ڈر مجھے

میں ایسا خاص رنگ ہوں، ملنگ ہوں

نہ روک مجھ کو رقص سے میں کہہ چکا

ملنگ ہوں، ملنگ ہوں، ملنگ ہوں


فیصل امام رضوی

No comments:

Post a Comment