یقیں خدا کا دلاتے گواہ کی تصویر
مِری نگاہ میں ہے اک نگاہ کی تصویر
یہ آنکھ مجھ کو ملی ہے کہ میں بناتا رہوں
سُنہری، سبز، سفید و سیاہ کی تصویر
تمام رات یہ سوچوں کہ کس کو دیکھنا ہے
رخِ حبیب یا پھر مہر و ماہ کی تصویر
اُٹھا وہ اور کلامِ مجید اٹھا لایا
کہا تھا میں نے دکھا خیرخواہ کی تصویر
دکھانا چاہتا ہوں سر کلام کرتا ہوا
بنانا چاہتا ہوں رزم گاہ کی تصویر
یہ کیا کہ گھر سے ملی ہیں سبھی کی تصویریں
نہیں تو ایک نہیں سربراہ کی تصویر
یہ آئینہ ہے مِرے یار! کام آئے گا
کبھی جو دیکھنا چاہو گناہ کی تصویر
امتیاز انجم
No comments:
Post a Comment