Sunday, 16 January 2022

ایک مدت سے درد کم کم ہے

 ایک مدت سے درد کم کم ہے

جانے کس بات کا مجھے غم ہے

جانے کیوں دل کو بے قراری ہے

جانے کیوں آج آنکھ پر نم ہے

وسعتِ تشنگی ہے بے پایاں

اور پینے کو صرف شبنم ہے

تیری آنکھوں کو چوم لوں لیکن

کیا کروں دل کا حوصلہ کم ہے

حسن کی مملکت بہت محدود

عشق کے ساتھ ایک عالم ہے

ساتھ ہوں تیرے اے غمِ دوراں

زلفِ جاناں اگرچہ برہم ہے


جاوید کمال رامپوری

No comments:

Post a Comment