Sunday, 16 January 2022

تو نہیں تھا تو اجالوں کا سفر چھوڑ دیا

 تُو نہیں تھا تو اجالوں کا سفر چھوڑ دیا

ہمسفر! ہم نے بہاروں کا سفر چھوڑ دیا

اے محبت کے امیں! سبز ہلالی رُت کی

رات بنجر تھی سو خوابوں کا سفر چھوڑ دیا

آنکھ نے اوڑھ لی پھر غم کی ردائیں اک دن

بِن تِرے اس نے نظاروں کا سفر چھوڑ دیا

عمر بھر دکھ کہ سمندر میں رہے غوطہ زن

ہجر میں ڈوب کہ یادوں کا سفر چھوڑ دیا

بس تِرے کرب سے وا بستہ رہی مرگ و حیات

اس لیے یار ستاروں کا سفر چھوڑ دیا

لذتِ درد کی خواہش میں حرا رات گئے

چاند کیا چاند کے ہالوں کا سفر چھوڑ دیا


حرا قاسمی

No comments:

Post a Comment