لرزتا رہتا ہوں کر دے نہ پاش پاش مجھے
تراشتا ہے عجب طور بُت تراش مجھے
کہیں تلاش کا حاصل تِرا بدن ہی نہ ہو
نئے جزیرۂ دنیا کی ہے تلاش مجھے
کسی کے حسن نے بخشی ہے مجھ کو بینائی
کسی کے لمس نے بخشا ہے ارتعاش مجھے
اگر میں ہار چکا ہوں، مجھے یقین دِلا
شکست ہی نہیں لگتی شکستِ فاش مجھے
کوئی تمنا تڑپتی ہے میرے سینے میں
سنائی دیتی ہے آوازِ دلخراش مجھے
میں اپنے آپ میں ہر روز قتل ہوتا ہوں
مِرے مکان سے ملتی ہے روز لاش مجھے
امتیاز انجم
No comments:
Post a Comment