Thursday, 20 May 2021

وہ بے حسی کہ ذرا بھی وہ پیش و پس نہ تھا

 وہ بے حسی کہ ذرا بھی وہ پیش و پس نہ تھا

اسیر جیسے نشیمن میں تھا قفس میں نہ تھا

شکست حسن گوارا نہ تھی مجھے، ورنہ

نہیں یہ بات کہ وہ میری دسترس میں نہ تھا

بھرم وفا کا خلوصِ نیاز نے رکھا

وگرنہ فرق کوئی عشق اور ہوس میں نہ تھا

نہ عدل کا تھا نہ ظلم کا احساس

جو داد خواہ میں جذبہ تھا داد رس میں نہ تھا

گل و سمن کے سہارے خزاں در آئی تھی

اثر بہارِ چمن کا تو خار و خس میں نہ تھا

حصولِ شوق میں مجبورِ کش مکش دونوں

اسیر تھا وہ انا کا تو دل اپنے بس میں نہ تھا

کمی تھی اس میں مبارک نہ اور کچھ لیکن

وہ اک خلوص تھا جو میرے ہم نفس میں نہ تھا


مبارک مونگیری

صحرا سے گلستاں تک

No comments:

Post a Comment