Sunday, 23 May 2021

دل میں حسرت کا داغ جلتا ہے

 دل میں حسرت کا داغ جلتا ہے

یا حرم میں چراغ جلتا ہے

اب خِرد بھی جنوں کی راہ لگی

دل تو دل ہے دماغ جلتا ہے

یاد آتی ہے آرزوؤں کی

دل کا ایک ایک داغ جلتا ہے

پھول ہیں یا دہکتے انگارے

فصلِ گُل ہے کہ باغ جلتا ہے

یاس میں بھی یہ حوصلہ دل کا

تیرگی میں چراغ جلتا ہے

اب نشیمن کی خیر ہو یا رب

شعلۂ گُل سے باغ جلتا ہے


مبارک مونگیری

No comments:

Post a Comment