Sunday, 23 May 2021

اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا

 اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا

جس کی زد میں ہے پہاڑوں کا دھواں آیا ہوا

یہ تِرے عشق کی میقات یہ ہونی کی ادا

دھوپ کے شیشے میں اک خواب سا پھیلایا ہوا

باندھ لیتے ہیں گرہ میں اسی منظر کی دھنک

ہم نے مہمان کو کچھ دیر ہے ٹھہرایا ہوا

طائر و ابر و ہوا بھی ہیں اسی الجھن میں

کیسے دو ہونٹوں نے اک باغ ہے دہکایا ہوا

چھید ہیں عمر کی پوشاک پہ تنہائی کے

خوشنما قریوں میں ہوں آپ سے اکتایا ہوا

رات آتی ہے تو رکھ دیتی ہے پھاہا دل پر

ورنہ اس دشت کا ہر پیڑ ہے زخمایا ہوا

ہڈیاں جوڑ کے ترتیب سے اس نے عامر

خواب کا لٹھا ہے اس روح کو پہنایا ہوا


عامر سہیل

No comments:

Post a Comment