Sunday, 23 May 2021

دنیا سے ہر رشتہ توڑا خود سے رو گردانی کی

 دنیا سے ہر رشتہ توڑا خود سے رو گردانی کی

صرف تمہارا دھیان رکھا اور جینے میں آسانی کی

مجنوں اور فرہاد ہوئے جب عشق میں سب برباد ہوئے

تب جنگل نے کوچ کیا، صحرا نے نقل مکانی کی

اس کی موہنی صورت جیسے پھولوں کا آمیزہ ہے

اور اس کی آواز ہے گویا رے گا ما پا دھانی کی

بھُولی بسری یاد نے جب دریافت کیا احوال مِرا

دل نے زخم کلام کیا، آنکھوں نے اشک بیانی کی

علم کا دم بھرنا چھوڑو بھی اور عمل کو بھول بھی جاؤ

آئینہ خانے میں ہو صاحب! فکر کرو حیرانی کی


احمد شہریار

No comments:

Post a Comment