Wednesday, 19 May 2021

ابر آئیں بھی اس پر تو برستے ہیں بہت کم

 ابر آئیں بھی اس پر تو برستے ہیں بہت کم 

گلشن جو اجڑ جائیں وہ بستے ہیں بہت کم 

ہے راہنما ساتھ بھی، نزدیک بھی منزل

دشوار رسائی ہے کہ رستے ہیں بہت کم 

یہ لاف زنی ہیچ ہے گفتار کے غازی

بادل جو گرجتے ہیں برستے ہیں بہت کم 

مژگاں کی صفوں سے ہے غضب بارشِ ناوک

ہر چند کمانداروں کے دستے ہیں بہت کم 

اس دور کے قارون تو اُڑتے ہیں فلک پر

اس عہد میں مٹی میں تو دھنستے ہیں بہت کم 

سینچا نہ جنہیں گریۂ شبنم نے مبارک

وہ پھُول سرِ شاخ بھی ہنستے ہیں بہت کم 


مبارک مونگیری

صحرا سے گلستاں تک

No comments:

Post a Comment