Tuesday, 18 May 2021

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی

 دل سے باہر ہیں خریدار ابھی

سامنے ہے بھرا بازار ابھی

آدمی ساتھ نہیں دے سکتا

تیز ہے سائے کی رفتار ابھی

یہ کڑی دھوپ یہ رنگوں کی پھوار

ہے تِرا شہر پر اسرار ابھی

دل کو یوں تھام رکھا ہے جیسے

بیٹھ جائے گی یہ دیوار ابھی

آنچ آتی ہے صبا سے باقی

کیا کوئی گُل ہے شرربار ابھی


باقی صدیقی

No comments:

Post a Comment