Tuesday, 18 May 2021

فکر اہل ہنر پہ بیٹھی ہے

 فکر اہلِ ہنر پہ بیٹھی ہے

شاعری سیم و زر پہ بیٹھی ہے

پہلے ہاتھوں میں ہاتھ رہتا تھا

زندگی، اب کمر پہ بیٹھی ہے

سہمی سہمی ہوئی سی ہر خواہش

دلِ وحشت اثر پہ بیٹھی ہے

پھول کانٹوں کے بیچ رہتے ہیں

خُوشبو تتلی کے پر پہ بیٹھی ہے

آستینیں ٹٹول کر دیکھو

دوستی کس ڈگر پہ بیٹھی ہے


بدر واسطی

No comments:

Post a Comment