عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امامِ حسینؑ
حسینؑ فاتحِ خیبر کے ہیں سدھائے ہوئے
کہ بچ نہ پائے کبھی جس کی ضرب کھائے ہوئے
حسینؑ عزمِ شہادت میں آزمائے ہوئے
چلے ہیں دین کی اپنے صلیب اٹھائے ہوئے
ورق کی طرح یہ لرزاں یزیدیت کا بدن
ہے سر بریدہ شہیدوں سے خوف کھائے ہوئے
گھٹا سکے نہ تقدس حسینؑ کے خوں کا
عدو کے تیر تھے گو، زہر میں بجھائے ہوئے
جو لال کر گئے کربل کے ریگزاروں کو
وہ لعلؑ شہرِ مدینہ سے تھے بُلائے ہوئے
دراصل خود ہی ہیں ورثائے ساقئ کوثرﷺ
بقولِ جہل ہیں جو؛ پیاس کے ستائے ہوئے
نبیﷺ سے پہلے بھی جدِ نبیؐ، مؤحد تھے
اگرچہ سارے قبیلے تھے بُت بنائے ہوئے
بجائے آنکھ کے شہ رگ سے خون بہا دیں گے
ہم اپنے دل میں ہیں اک کربلا بسائے ہوئے
زباں سے اپنی کہیں گے انہیں بھلا ہم کیا
خدا ہے، نفسِ پیمبر جنہیں بنائے ہوئے
وہیں رسیدِ جہنم ہوئے ہیں تیرہ نصیب
مقام جو مِرے مولیٰؑ کے تھے بتائے ہوئے
نہ ہوں گے محو دل و ذہن سے بھی مومن کے
نظرمیں راکبِ دوشِ رسولﷺ چھائے ہوئے
خواجہ ثقلین
No comments:
Post a Comment