Friday, 21 January 2022

تیرے رخسار کو گلنار کیا کرتی ہے

 تیرے رخسار کو گلنار کیا کرتی ہے

کتنا پُر کیف ستم سرد ہوا کرتی ہے

جب بھی گلشن میں کلی پھول ہوا کرتی ہے

اس کی تشہیر فقط باد صبا کرتی ہے

کیوں اسی زخم کو ناسور کیا کرتی ہے

اے مِری عمرِ گزشتہ تو یہ کیا کرتی ہے

آس پتھر بنی اک دل میں بسا کرتی ہے

راہ اپنے کسی آذر کی تکا کرتی ہے

لوگ کیا جانیں، دھنک یوں بھی کیا کرتی ہے

رنگ سارے تِرے آنچل سے لیا کرتی ہے

نغمگی، آپ کی گفتار کی سبحان اللہ

بانسری، جیسے کہیں دور بجا کرتی ہے

منحصر،رنگتیں ہوتی ہے رتوں پر یوں تو

مفلسی ہی کی مگر زرد ہوا کرتی ہے

تُو ہی باندھے ہوئے رکھتا ہے خیالوں میں مجھے

خلق تو قید پرندوں کو رہا کرتی ہے

فصلِ گل حوصلہ دیتی ہے، جنوں کو آ کر

اور خرد چاک گریباں کو سِیا کرتی ہے

یاد کیوں شب کے دھندلکوں سے نکل کر اس کی

دل کے دروزے پہ دستک سی دیا کرتی ہے


خواجہ ثقلین

No comments:

Post a Comment