Friday, 21 January 2022

اپنی آنکھوں سے کوئی چیز کہاں دیکھتے ہیں

 اپنی آنکھوں سے کوئی چیز کہاں دیکھتے ہیں

ہم تو آنکھوں سے تِری سارا جہاں دیکھتے ہیں

بات جھوٹی ہے کہ سچی یہ کہاں دیکھتے ہیں

اب تو منصف بھی فقط زور بیاں دیکھتے

خوف سے کانپنے لگتے ہیں بتوں کے ہمدرد

دشت میں گونجتی جس وقت اذاں دیکھتے ہیں

وہ جو مشہور تھے پتھر کے کلیجے والے

ان کی آنکھوں سے بھی ہم اشک رواں دیکھتے ہیں

شانِ محبوب میں گستاخیاں کرنے والی

کیسے رہتی ہے سلامت وہ زباں دیکھتے ہیں

پیش کرتا ہے جہاں ان کو محبت کے گلاب

جس کا سر آپ اسد نوکِ سناں دیکھتے ہیں


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment