Wednesday, 22 December 2021

ہو روح بے قرار جو بار گناہ سے

 ہو روح بے قرار جو بارِ گناہ سے

لے آ سکون جا کے کسی خانقاہ سے

لوٹ آئیں گے حریف کو دکھلا کے آئینہ

کیا ہم بھی کوئی کم ہیں کسی کج کلاہ سے

نسبت ہے شاہِ مصر و دلِ نامراد کو

کنعاں کے چاہ اور زنخداں کے چاہ سے

رہ رہ کے شاید اس لیے پڑتی ہے بار بار

کچھ ربط ہے نظر کو تِری بارگاہ سے

شاخوں نے روپ دھار لیا تیغ وتیر کا

عاجز ہیں بے زبان بھی اس قتل گاہ سے

بچوں کو روتا دیکھ کے دشمن کی گود میں

ہم تیغ رکھ کے لوٹ گئے رزم گاہ سے

اظہار حق کا کیوں نہ ہو طاغوت کے خلاف

تنگ آ گئے پرند قفس کی پناہ سے

اک بھیڑ، بے ثبات عدو کی سپاہ ہے

آ، ابتدائےجنگ کریں سربراہ سے

فرعونِ وقت کا جو رویہ یہی رہا

ہل جائے گا یہ تخت بھی ماؤں کی آہ سے


خواجہ ثقلین

No comments:

Post a Comment