ہیں معتقد ساقئ یارانِ حرم کتنے
کعبے سے خمستاں تک ہیں نقشِ قدم کتنے
واعظ کا گِلہ کیا جب سوچا نہ برہمن نے
اک دل کے بنانے میں کام آئے صنم کتنے
اس جانِ تغافل کی تکلیفِ تبسم سے
آنسو ہوئے جاتے ہیں شائستہ غم کتنے
ناموسِ تعلق کی سوگند ذرا سوچو
برگشتہ ہو تم کتنے وارفتہ ہیں ہم کتنے
پینے کی نہیں لیکن لغزش کی پرکھ ہو گی
اب دیکھیۓ محفل میں کھلتے ہیں بھرم کتنے
یہ بات بتا کر ہم کیوں غم کو کریں رسوا
ہیں اہلِ کرم کتنے، ہیں اہلِ ستم کتنے
اربابِ الم آنسو پیتے ہی گئے پھر بھی
دیکھو تو ذرا جوہر دامن ہوئے نم کتنے
جوہر صدیقی
No comments:
Post a Comment