آنکھ سے جس دن نیند کا رشتہ ٹوٹے گا
مجھ کو پتا ہے مجھ میں کیا کیا ٹوٹے گا
کرچی کرچی ہو جائیں گی تعبیریں
آنکھ میں جس دن خواب کا شیشہ ٹوٹے گا
دونوں جانب بےچینی بڑھ جائے گی
دیکھنا جس دن پل کا رستہ ٹوٹے گا
خود کو بچانے میں بھی ہم ناکام رہے
کس کو خبر تھی کہ یوں دریا ٹوٹے گا
مہک اٹھیں گے پھولوں سے سب ویرانے
بادل جب جب صحرا صحرا ٹوٹے گا
روک نہ پائے گا یہ یزیدی لشکر بھی
پانی پر جس وقت یہ پیاسا ٹوٹے گا
اس لمحے ہم رب سے تجھ کو مانگیں گے
جانِ اسد! جب کوئی تارا☆ ٹوٹے گا
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment