Wednesday, 22 December 2021

آنکھ سے جس دن نیند کا رشتہ ٹوٹے گا

 آنکھ سے جس دن نیند کا رشتہ ٹوٹے گا

مجھ کو پتا ہے مجھ میں کیا کیا ٹوٹے گا

کرچی کرچی ہو جائیں گی تعبیریں

آنکھ میں جس دن خواب کا شیشہ ٹوٹے گا

دونوں جانب بےچینی بڑھ جائے گی

دیکھنا جس دن پل کا رستہ ٹوٹے گا

خود کو بچانے میں بھی ہم ناکام رہے

کس کو خبر تھی کہ یوں دریا ٹوٹے گا

مہک اٹھیں گے پھولوں سے سب ویرانے

بادل جب جب صحرا صحرا ٹوٹے گا

روک نہ پائے گا یہ یزیدی لشکر بھی

پانی پر جس وقت یہ پیاسا ٹوٹے گا

اس لمحے ہم رب سے تجھ کو مانگیں گے

جانِ اسد! جب کوئی تارا☆ ٹوٹے گا


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment