Wednesday, 16 March 2022

آتی رہیں گی عید و دوالی کی رونقیں

 ہمزاد کا غم


آتی رہیں گی عید و دوالی کی رونقیں

سیماؤں،سرحدوں میں بھی بٹنے کے باوجود

ہیں ہاتھ بیٹیوں کے سروں پر تِری، مِرے

تقسیم کے بہاؤ میں کٹنے کے باوجود


تیری بھی بیٹیوں کی ردائیں ہیں تار تار

مجھ کو بھی نیند آئے گی کیسے سکون کی

حیوانیت کا رقص تِرے شہر میں بھی ہے

چھینٹیں تو چادروں پہ ادھر بھی ہیں خون کی


مجھ کو بھی گھیرتی ہیں بلائیں زمین کی

تجھ پر بھی ٹوٹتے ہیں ستم آسمان سے

تیرے بدن پہ بھی تو پُر اسرار زخم ہیں

مجھ پر بھی تیر آئے ہیں خفیہ کمان سے


آب و ہوا، زمین بھی، دریا بھی ایک سے

بے چین و بے سکون ہوائیں ادھر بھی ہیں

پھل،پھول، اور فصل بھی، موسم بھی ہیں وہی

بے امن و بے چراغ فضائیں ادھر بھی ہیں


لہجے الگ الگ، نہ زبانوں میں فرق ہے

خوشیاں الگ الگ ہیں، مگر غم تو ایک ہیں

گونجیں ادھر، ادھر کے پرندوں کے چہچہے

ہوں لاکھ سرحدوں میں بٹے ہم تو ایک ہیں


حالات ایک سے ہیں، تو حل ایک ڈھونڈ لیں؟

رنگنے لگے ہیں خواب بھی نفرت کے رنگ میں

وہ جنگجو نہیں رہے اب میری فوج میں

تُو نے بھی اپنے وِیر گنوائے ہیں جنگ میں


بجتی اگر ہیں تیرے شوالوں میں گھنٹیاں

میری فضا میں بھی تو اذانوں کا سوز ہے

تیرے بدن میں بھی ہے اگر آستھا کا خون

میرے لہو کا رنگ بھی ایماں فروز ہے


زیتون کی ہو شاخ تِرے ہاتھ میں اگر

چہرہ ادھر بھی فرطِ مسرت سے لال ہو

اڑتا ہو گر عبیر فضاؤں میں اس طرف

ہاتھوں میں منچلوں کے ادھر بھی گلال ہو


خواجہ ثقلین

No comments:

Post a Comment