اسی لیے تو تجھے معتبر نہیں لکھا
کبھی بھی خوف کے زیرِ اثر نہیں لکھا
ہمارے ساتھ چلے ہو تو اتنا دھیان رہے
ہماری راہ میں کوئی شجر نہیں لکھا
بنا رہا تھا میں فہرست دل کے زخموں کی
کسی بھی زخم کو بارِ دگر نہیں لکھا
سبھی میں خواب مگر مختصر مسافت کے
کسی بھی آنکھ میں لمبا سفر نہیں لکھا
مجھے یہ ڈر تھا حقیقت نہ لوگ سمجھیں اسے
سو میں نے اپنے فسانے میں ڈر نہیں لکھا
عجیب شہر ہے جس میں مکان ہیں سارے
کسی مکان کے ماتھے پہ گھر نہیں لکھا
خالد ندیم شانی
No comments:
Post a Comment