Saturday, 14 November 2020

تم نہیں سمجھو گے چاند کا دکھ

 تم نہیں سمجھو گے

چاند کا دکھ

کہ جب وہ

گھٹنے لگتا ہے

تو کیسے ماند پڑ جاتا ہے

تم نہیں سمجھو گے

ادھورے خواب کا دکھ

کہ جب

عین تکمیل پہ آنکھ کھل جائے

خیر تم کیا سمجھو گے

ان باتوں کو

تم نے نہیں جھیلا نہ

ادھوری ذات کا دکھ


نامعلوم

No comments:

Post a Comment