کیا ایسا ہو سکتا ہے
کسی دن تمہارے پاس ڈھیر سارا وقت ہو
اور میں اپنی حسرتوں بُنی شال کا دھاگہ دھاگہ ادھیڑ کر تمہیں دکھاوْں
کیا ایسا ہو سکتا ہے؟
کسی سمندر کنارے کسی سیمنٹ کے بینچ پر میری پشت کائنات کی پشت سے لگی ہو
اور سمندر ہماری باتیں سن کر محبت زندہ باد کا شور مچا دے
کیا ایسا ہو سکتا ہے؟
کسی روز اپنی یادوں کے ہمراہ تم خود بھی آوْ
اور میرے کاندھے پہ سر رکھ کر کہو
"اتنا یاد کیوں کرتے ہو، بے دھیانی کا دھیان بھی اپنی سمت کھینچ لیتے ہو "
کیا ایسا ہو سکتا ہے؟
کسی جھیل کنارے کی شام ہو
اور جھیل کنارے اڑتے جگنوؤں کی روشنی کے سائے میں
میں تمہارے سامنے تمہاری مجبوریوں کو نظم کروں
مجھے معلوم ہے
ایسا ہو سکتا ہے
گر تم چاہو
ایسا ہو سکتا ہے
خالد ندیم شانی
No comments:
Post a Comment