نہیں ہے پل کا بھروسہ، جہانِ فانی میں
یہ مٹی، مٹی میں مل جائے پانی پانی میں
وہ دن نہ ہو کہ عناصر کو بھی فنا ہو جائے
کہ پھر تو خاک بھی بچتی نہیں نشانی میں
میں ایک نقطۂ محدود بن کے رہتا ہوں
مِرا وجود نہ مِٹ جائے بے کرانی میں
مِرا یہ کام بھی آسان ہو گیا آخر
بندھی نہ نزع کی ہِچکی بھی ناتوانی میں
مِرا گِلہ تو کرو جب کہ میں ہی میں ہوتا
کوئی تو اور بھی کِردار ہے کہانی میں
تجھے خبر ہی کہاں، اے جمالِ نو مولود
کہ تُو بھی چار دن اِترائے گا جوانی میں
دلوں سے مِٹ نہیں سکتے بطن کے رشتے بھی
تمام عمر بھی کٹ جائے بد گمانی میں
یہ زندگی بھی عجب ہے کہ جس کی جاں چُھوٹی
پلٹ کے آیا نہیں کُوئے رائیگانی میں
بچی ہوئی ہے کہیں نجم اب بھی کشتئ نُوح
ہر ایک نوع کو بچا لائے گی نشانی میں
نجم الحسن کاظمی
No comments:
Post a Comment