یہ اندازہ بھی ہو جاتا ہے جی کے
بہت عنوان ہیں اس زندگی کے
وہاں جشنِ چراغاں ہو رہا ہے
یہاں آثار کم ہیں روشنی کے
تِری دہلیز پہ بیٹھا ہوں جب سے
مجھے خوش دیکھ کر خوش ہونے والے
کئی مفہوم ہوتے ہیں ہنسی کے
بظاہر معتبر چہرے ہیں، لیکن
بہت سے روپ دیکھے آدمی کے
مِری آنکھوں سے جب گزرا اندھیرا
کھلے اسرار مجھ پر روشنی کے
زاہد آفاق
No comments:
Post a Comment