Wednesday, 8 September 2021

زندگی میں بڑے خسارے ہیں

زندگی میں بڑے خسارے ہیں

چین سے کس نے دن گزارے ہیں

ساتھ رہ کے بھی نیارے نیارے ہیں

ہم بھی کیا آسماں کے تارے ہیں

بس ہمیں آفتوں کے مارے ہیں

ورنہ یاروں کے وارے نیارے ہیں

زندگی تیرے بل نہیں نکلے

ہم اگر ہارے تجھ سے ہارے ہیں

فرق دیر و حرم سے کیا لینا

ایک دریا کے دو کنارے ہیں

نیکیوں ہی کی پاسداری کی

ہم نے بچھو بھی پار اتارے ہیں

چاہے سچ ہو یقیں نہیں آتا

تم ہمارے نہ ہم تمہارے ہیں

کیا کسی کو برائی دیں نامی

ہم تو اپنے کیے کے مارے ہیں


نامی نادری

No comments:

Post a Comment