یہ راز عیاں ہے کسے معلُوم نہیں ہے
سب ہاتھ رنگے ہیں کوئی معصُوم نہیں ہے
گھیرے ہوئے ہیں سب کو ہی اعمال کے گرداب
ظالم نہیں کوئی،۔ کوئی مظلُوم نہیں ہے
یہ شہر کی تاریکیاں جنگل کے اُجالے
کہتے ہیں کہ کچھ بھی لازم و ملزُوم نہیں ہے
کل آج کل میں بکھرے ہیں ہستی کے قوافی
گویا یہ زندگی ابھی منظُوم نہیں ہے
انساں ہے ہست و نِیست کا یارو عجب مذاق
رہتا ہے عدم میں مگر معدُوم نہیں ہے
سانسوں کا تواتر ہو یا دھڑکن کی دھما دھم
الہانِ ذات ہیں میرا مفہُوم نہیں ہے
اُلفت کا تقاضہ تھا سو کرنے دی جفائیں
بندہ وگرنہ آپ کا محکُوم نہیں ہے
اقتدار اعوان
No comments:
Post a Comment