Thursday, 10 February 2022

یہ نہ سمجھو کہ فقط روٹھ کے جا سکتا ہوں

 یہ نہ سمجھو کہ فقط رُوٹھ کے جا سکتا ہوں

خواب میں آ کے تمہیں پھر سے منا سکتا ہوں

تُو کہ پھر تُو ہے، بتا سکتا ہے درباروں کا

اور میں، شہر کے درویش گِنا سکتا ہوں

اس نے جو کچھ بھی کیا، میرے ہرانے کو کیا

میں یہ الزام زمانے پہ لگا سکتا ہوں

تُو مِرے حُسنِ تکلم سے کہاں واقف ہے

گندمی رنگ اناروں سا بنا سکتا ہوں

یہ تو یہ دل ہے کہ کہتا ہے، ذرا دیر ٹھہر

تنہا میں آخری شمع بھی بُجھا سکتا ہوں


میر تنہا یوسفی

No comments:

Post a Comment