معذرت
کہیں اس برس بھی
ہمارے محلّوں سے ہو کر اگر تم نہ گزرے
تو ہم سب، ہمارے چرندے پرندے
نمودہ رُتوں میں ہراساں رہیں گے
کہیں اس برس بھی اگر تم نے
مشترکہ کھیتوں کی جانب پلٹ کر نہ دیکھا
تو خوشوں میں دانوں کی تعداد
ہلکی رہے گی
ہمارے لیے اب مناجات اور خوش قطع
گفتگو کے بہاؤ میں سکتے کا دورانیہ
ہر نئے دن کے ہمراہ بڑھنے لگا ہے
علالت کے پردے میں رشتے
اُدھڑتے چلے جا رہے ہیں
وبا کی گھڑی ہے
وبا کی گھڑی سے ابھی اور جانے نئی
کتنی گھڑیاں ملیں گی
دِیے سے دِیے کا کنارہ جلے گا
کہیں یہ زمین چین سے سانس لے گی
تو خوش بختیوں سے بھری سیپیوں میں
کسی شُبھ گھڑی
لال موتی بنیں گے
وبا کی گھڑی میں اداسی کا شیوہ مناسب نہیں ہے
ابھی بخت کے خار زاروں سے ہو کر
گزرنا ہے سب نے
ابھی خلق نے اپنے اپنے بدن کا نمک چاٹنا ہے
جدائی کی بیلیں مسافت کے تن سے جدا ہو رہیں گی
پرانی نمائش اکھڑنے لگی ہے
کہانی کے باطن میں اور ایک تازہ کہانی کا انبوہ ہے
جس کے آگے
پرانے فسانوں میں لکھے ہوئے سُورما
اپنی تاریخی کردار سے
معذرت کر چکے ہیں
ذرا اس برس تم
ہمارے محلوں سے مشترکہ کھیتوں کی جانب
اتر کر تو دیکھو
فرخ یار
No comments:
Post a Comment