جو تیر اس نے چھوڑے تھے سب اپنی جا لگے
دنیا ہے کیسے حال میں، اب اس کو کیا لگے
جو خوش نصیب تھے وہ گھروں کو نکل پڑے
ہم جیسے بے امان دیواروں سے جا لگے
ہم ریگزارِ ہجر کے عادی ہیں اس قدر
کہ لُو تمہارے شہر کی ٹھنڈی ہوا لگے
سجدوں میں گر کے دیکھ لیا، خوب رو لیا
ہم وہ نہیں کہ جن کو خود اپنی دعا لگے
دنیا نے جو بھی کرنا تھا تنہا وہ کر چکی
اب تم بھی ویسا کر لو جو تم کو روا لگے
میر تنہا یوسفی
No comments:
Post a Comment