دل لہو ہوتا ہے ہو، آنکھیں لہو مت کیجیو
چاہتی ہے جو یہ دنیا، وہ کبھو مت کیجیو
رہیو محوِ گفتگو اک آرزو سے رات دن
آرزو جب روبرو ہو، گفتگو مت کیجیو
جانیو اس کو تبرک، بارگاہِ عشق کا
جب مسک جائے کوئی دھڑکن، رفو مت کیجیو
سورۂ یوسف ہے وہ رخ دید کو تاکید ہو
ایسے چہرے کی تلاوت بے وضو مت کیجیو
مدعا کہہ کر سبک سر کیجیو مت عشق کو
اس انا خو کی انا کو سرخرو مت کیجیو
بے نسب آواز کا مت دیجیو ہرگز جواب
اپنے لہجے کو کبھی بے آبرو مت کیجیو
دربدر، کاسہ بہ کف، شہرت گزیدوں کا یہ غول
ان سے عبرت لیجیو، یہ ہاؤ ہو مت کیجیو
چاک پر کیسے ڈھلا ہے کون، کس آوے کا ہے
جانیو سب، آئینہ پر روبرو مت کیجیو
نسیم سید
No comments:
Post a Comment