وِداع کے لفظ تک بولے ہوئے ہوں
میں اپنے بادباں کھولے ہوئے ہوں
کہو تو میں بھی تھوڑا بول دیکھوں
کہ اپنے لفظ اب تولے ہوئے ہوں
کہیں اس کا پتہ ملتا نہیں ہے
خس و خاشاک تک رولے ہوئے ہوں
مِرے گِریے پہ ہے وہ آبدیدہ
میں دریا جھیل میں گھولے ہوئے ہوں
مجھے دیکھا تھا اس نے ایسے تنہا
ابھی بھی میں جو یوں ڈولے ہوئے ہوں
میر تنہا یوسفی
No comments:
Post a Comment